Saturday, September 13, 2014

معصوم بستیوں کو سمندر نگل گیا سیلاب کا بھی زَور غریبوں پہ چل گیا پانی نے ہر مکان کو ہموار کر دِیا اِک رات میں حویلی کا نقشہ بدل گیا دَریا بہا کے لے گیا گڑیا کا کُل جہیز اَفسوس ، بے بسی کے سمندر میں ڈَھل گیا چاول ، اَناج ، دالیں ، مربے ، اَچار ، گُڑ اِک سال کا تھا رِزق جو پانی میں گَل گیا کینو ، کھجور ، موسمی ، اَمردو ، آم ، سیب پھل صبر کا ہی رِہ گیا ، باقی تو پھل گیا اے کاش جانور سبھی بن جاتے مچھلیاں بے بس مویشی دیکھ کے پتھر پگھل گیا رُکنے کا وَقت تھا ہی نہیں کون دیکھتا اِک بوڑھا جھونپڑی سے نکلتے پھسل گیا مٹی کے کچھ کھلونے بھی مٹی میں مل گئے ممتا کی آرزُو کا جنازہ نکل گیا کچے گھروں کی سمت بہاؤ کو موڑ کر صد شکر شہر ڈُوبنے کا خطرہ ٹَل گیا اِن کشتیوں کے نیچے کئی لوگ رہتے تھے میں نے جو آج سوچا مرا دِل دَہل گیا پرکھوں کی آج ہم کو بہت یاد آئی قیس جن کی لَحَد بھی پانی کا ریلا نگل گیا



via Facebook http://on.fb.me/1quWCwC

No comments: