Saturday, November 22, 2014

رات کے بارہ بجے ہیں۔ یہ نومبر کی ایک سرد رات ہے اور درجہء حرارت دس ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے ہے۔ مجھ سمیت پاکستانیوں کی اکثریت اپنے نرم وگرم بستروں میں سوچکی ہے یا سونے کی تیاری میں ہے۔ سردیوں کی اس تاریک رات کے اس پہر یہاں سے تقریبا ایک کلومیڑ دور سے لاؤڈسپیکر پر ایک شخص کی آواز گونج رہی ہے۔ اس آواز کو اسی طرح گونجتے ہوئے سو دن ہونے کو ہیں۔ لیکن آج اس آواز کو سن کر میں سو نہیں پارہا۔ اس کی وجہ یہ نہیں کے آواز بہت اونچی ہے بلکہ اس لیے کے میں اس آواز کو بلند کرنے والے شخص کے لیے اپنے دل میں بہت جذبات اور درد محسوس کررہا ہوں۔ کیوں کے اب سے کچھ گھنٹے پہلے میں ٹی وی پر اسی شخص کو ملک کے ایک دوسرے کونے میں تقریر کرتے سن رہا تھا۔ کئی سو کلومیٹر سے واپس آکر یہ شخص اپنے گھر نہیں گیا بلکہ ان لوگوں کو درمیان پھر واپس پہنچ گیا جو اس کے انتظار میں بیٹھے تھے۔یہ وہ باسٹھ سالہ شخص ہے جس نے ساری زندگی اس ملک کو دیا ہی ہے۔ دنیا میں لوگوں کی ایک اکثریت ہمارے ملک کو صرف اسی شخص کے حوالے سے جانتی ہے۔ ہمارے ملک کے لیے اس شخص کی بہت خدمات ہیں۔ دنیا کے معتبر ترین حلقوں میں بھی اس شخص کو عزت واحترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ شخص جب بھی ملک سے باہر جس بھی فورم پر گیا اپنے ملک کے لیے آواز بلند کی۔ لیکن آج یہ شخص اس طرح دربدر کیوں ہے؟ پہلے شدید گرمی اور حبس، پھر بارش و طوفان اور اب رگوں میں خون جما دینے والی سردی میں یہ شخص اپنے گھر کی بجائے کنٹینر میں اپنے روز و شب بسر کر رہا ہے۔ آخر اس کا قصور کیا ہے؟ اس کا قصور یہ ہے کہ یہ "اسلامی جمہوریہ پاکستان" میں انصاف مانگ رہا ہے۔ چند لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ انصاف اپنی ذات کے لیے مانگ رہا ہے لیکن کاش اگر وہ غلامی کے اس خول سے باہر نکل کر جو اس ملک کے چند خاندانوں نے ان کے دماغوں پر چڑھایا ہوا ہے کہ اگر اس کے جائز مطالبات کو مان لیا جائے تو شاید اس کی ذات کو تو اتنا فائدہ نہ ہوں لیکن وہ اس ملک کی آنے والی نسلوں کے لیے ایک رحمت ثابت ہوگا۔ اگر اس جائز مطالبے کو مان کر انتخابات کی تحقیقات کرلی جائیں تو دو باتیں ہوگی۔ اگر وہ جھوٹا نکلا تو سارے ملک کے سامنے ایکسپوز ہوجائے گا اور شاید اس کا سیاسی کیریر بھی ختم ہوجائے۔ لیکن اگر وہ سچا نکلا تو انتخابی اصلاحات کے دروازے کھلے گے. ان لوگوں کو سزائیں ملیں گی جو ہمیشہ سے اس ملک کے لوگوں کا ووٹ چوری کرتے آئیں ہیں۔ اگر ایسے لوگوں کو سزائیں مل سکیں تو شاید آئیندہ کوئی ووٹ چوری کرنے سے پہلے ایک بارے سوچے گا تو ضرور۔ کم از کم ہماری آئیندہ نسلیں تو ایسے لوگوں کی حکمرانی سے بچ جائیں گی جنہیں وہ حکمران نہیں بنانا چاہیں گے۔ اگرایسا نہ ہوا تو اگلی بار آپ ہو سکتے ہیں جو کہیں گے کے میرا ووٹ چوری ہوا ہے۔ اگر حکمرانوں کو اس بات کا احساس ہو جائے کے وہ صرف اصلی ووٹ سے ہی اقتدار میں آسکتے ہیں تو اس ملک کے سارے مسائل ختم ہوجائیں گے۔ اصلی ووٹوں سے اقتدار میں آنے والے خود کو اکاونٹیبل سمجھیں گے۔ انھیں پتہ ہوگا کے خراب کارکردگی کے ساتھ وہ دوبارہ منتخب نہیں ہوسکیں گے۔ ملک میں حقیقی جمہوریت کا آغاز ہوگا اور پروان چڑھے گی۔ یہ باتیں تو ان لوگوں کے لیے تھیں جو ان جائز مطالبات کو بھی ناجائز سمجھتے ہیں۔ لیکن اب میں ان لوگوں سے مخاطب ہیں جو اس جدوجہد میں اس شخص کے ساتھ ہیں۔ میں بھی ان میں سے ایک ہوں۔ ہم ستر سال سے ہر طرح کے مظالم برداشت کرتے آئیں ہیں۔ اگر اتنے ہائی پروفائل شخص کو انصاف نہیں مل رہا تو ذرا سوچیں ایک عام آدمی کا اس ملک میں کیا حال ہوگا۔ کیا یہ ملک اس لیے بنا تھا کہ ہم گورے لوگوں کی غلامی سے نکل کر براؤن لوگوں کی غلامی میں آجائیں؟ اگر ایسا ہی تھا تو پھر شاید پاکستان نہ ہی بنتا تو بہتر تھا۔ پھر ہمیں کوئی گِلہ تو نہ ہوتا۔ ہماری اس جدوجہد کو سو دن ہونے والے ہیں۔ اس دوران ہمیں ناکام کرنے کے لیے ہر طرح کے حربے اور ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ ملک کو کنٹرینستان بنا دیا گیا۔ غیر قانونی گرفتاریاں کی گئیں، ناکے لگے، تشدد ہوا، اور کئی لوگوں کو جان سے بھی ماردیا گیا۔ ہمیں دہشت گرد، باغی، غدار، لشکری اور طرح طرح کے القابات سے نوازا گیا اور اب تو ہمارا لیڈر بھی ایک مفرور اشتہاری بن چکا ہے۔اب ہمارے پاس دو ہی راستے بچے ہیں کہ ہم چپ چاپ گھروں میں بیٹھ جائیں اور خود کو ان جعلی حکمرانوں اور ان کی نسلوں کی غلامی میں دے دیں۔ دوسرا راستہ جدوجہد کا ہے جو ہم اب بھی کررہے ہیں۔ اب اس جدوجہد میں ایک فیصلہ کن موڑ آنے والا ہے۔ ہمیں تیس نومبر کو ہر صورت آزادی چوک پہنچنا ہے اور حکومت یہ کوشش کرے گی کہ ہم کسی بھی صورت آزادی چوک اسلام آباد نہ پہنچ سکیں۔ گرفتاریاں ہونگی، رکاوٹیں ڈالی جائیں گی، راستے بند کیے جائیں گے، دہشت گردی کے خطرے سے ڈرایا جائے گا، گلوبٹی کی جائے گی اور شاید ایک قانون بھی پاس ہونے جارہا ہے کہ ریڈ زون میں احتجاج کو ممنوع قراردے دیا جائے۔لیکن ہمیں نکلنا ہے اس شخص کے لیے جو ہمارے لیے نکلا ہوا ہے، ہمیں نکلنا ہے اپنے لیے، ہمیں نکلنا ہے اپنے پاکستان کے لیے۔ اگر آج ہم نہ نکلے اور ناکام ہوگئے تو آئندہ کوئی بھی اپنا جائز حق لینے کے لیے نہیں نکلے گا۔ ان کے بعد ان کے بچے ہم پر حکومت کررہے ہونگے جو مجھے ایک لعنت کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ لہٰذا میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں انشاءاللہ نکلوں گا چاہے جیسے بھی حالات ہوئے تیس نومبر کو آزادی چوک پہنچوں گا۔ ابھی چند دن باقی ہیں۔ اگر آپ نے فیصلہ نہیں کیا تو کر لیں۔ خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر تیار کرلیں کیوں کہ اس دن ریاستی دہشتگردی بھی ہوگی، سردی اور بارش بھی۔ گھر والوں سے اجازت لے لیں۔ صرف ایک دن کی بات ہے۔ ہمیں اسلام آباد میں اپنی پریزنس شو کرنی ہے۔ ہمیں بتانا ہے کہ ہم چند ہزار نہیں بلکہ لاکھوں میں ہیں اور کروڑوں لوگوں نمائندگی کررہے ہیں۔ چند دن باقی ہیں۔ فیصلہ کرلیں شاید یہ ہمارے پاس آخری موقع ہے۔ اک گردنِ مخلوق کہ هر حال میں خم هے اک بازوئےقاتل کہ خون ریز بہت ہے کیوں مشعلِ دل فیض چهپاوں تہہ دامان بجھ جائے گی یوں بهی کہ هوا تیز بہت ہے!!


No comments: