Thursday, December 11, 2014

جانتے ہو یہ شخص کون ہے ؟ یہ کیچڑ میں لتھڑے ہوئے کپڑے یہ پھٹے بوٹ اتارتا ہوا انسان کون ہے ؟ کیا یہ کوئی غریب و مفلوک الحال بندہ ہے ؟ نہیں میں بتاتا ہوں یہ کون ہے ، یہ شخص وہ ہیرو ہے کہ ایک وقت تھا کہ ہندوستان اور پاکستان سے لے کر آسٹریلیا سے برطانیہ تک ہیروئینز اس پر جان چھڑکتی تھیں، جیسے ہی دلکش انسان پویلین سے گراونڈ میں داخل ہوتا لاکھوں دل دھک دھک کرتے تھے ، دنیا کے منگے ترین برانڈ اسکو اپنی کمرشل میں لینے کے لئے پیچھے پیچھے پھرتے تھے، اور جانتے ہو آج یہ شخص اس حالت میں کیوں ہے ؟ صرف اس قوم کے بچوں کے مستقبل کے لئے اس عظیم انسان نے اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے، یہ چاہتا ہے کہ اس ملک کے ہر بچے کو اسکا حق ملے، یہ چاہتا ہے کہ اس ملک کے ہر غریب اور امیر کے لئے ایک ہی قانون ہو، امیر اور غریب سبھی کو برابر انصاف ملے، مگر بدقسمتی سے اس ملک میں موجود چند بیمار سوچ اور مفلوج ذہن رکھنے والے غلام لوگ ہیں جن کو آزادی سے نفرت اور غلامی سے پیار ہے، وہ اس عظیم انسان کے خلاف اپنی غلیظ زبان استعمال کر رہے ہیں، ان کو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ جسے وہ آزادی سمجھ رہے ہیں وہ ظلم اور ناانصافی کا بوسیدہ اور فرسودہ نظام ہے، انکو کھانے کے لئے چند قیمے والے نان اور بریانی کی پلیٹ مل جاتی ہے، چند گھنٹے نعرے لگانے کے عوض انکے لئے بس یہی کچھ من و سلوی کی حیثیت رکھتا ہے، یہ کنوئیں کے مینڈک سمجھتے ہیں کہ بس یہی دنیا ہے اور اسی میں ہمیں رہنا ہے ، مگر یاد رکھو جب عمران خان ہمارے ساتھ نہیں ہوگا تب تم پچھتاؤ گے جب نورا اور زرداری تمھارے بچوں کا راتوں رات سودا کر دیں گے اور تمھارے پاس رونے کو بھی آنسو نہیں ہونگے ، اس انسان کی قدر کرو اور اپنے اور اس ملک و قوم کے بچوں کے مستقبل کی خاطر...


No comments: